Library Sindh Study FG Study Punjab Study Pk Notes

Author Topic: خود روزگاری كی ضرورت و اہمیت  (Read 2619 times)

Haji Hasan

  • Editorial board
  • Hero Member
  • *****
  • Posts: 725
  • My Points +4/-1
  • Gender: Male
خود روزگاری كی ضرورت و اہمیت
« on: December 04, 2007, 07:02:48 PM »
مسائل كا حل حقیقت پسندی سے ان كا تجزیہ كرنے میں پنہاں ہے ۔روزگار كے

مسائل كا حل بھی تبھی ممكن ہے جب ہم حقیقت پسندی كے ساتھ ان

مسائل كا تجزیہ كریں ۔آئیے دیكھیں كہ وہ كون سی ركاوٹیں ہیں جن كی وجہ

سے روزگار كے حصول میں ناكامیوں كا سامنا كرنا پڑے گا۔

١۔   آبادی میں اضافہ

ہمارے ملك میں آبادی كے اضافے كی شرح بہت زیادہ ہے اور پاكستان كا شمار

ایسے ممالك میں ہوتا ہے جن میں آبادی كی شرح كی رفتار سب سے زیادہ

۔آبادی میں اس بے تحاشا اضافے نے ملك كا نظام درہم برہم كركے ركھ دیا ہے ۔ملك

میں قائم سركاری اور نجی ادارے اس حد تك دبائو میں ہے كہ ان كے لیے روزگار

كے نئے مواقع پیدا كرنا خاصا مشكل ہوگیا ہے ۔آبادی میں اضافہ اگر وسائل میں

اضافے كے ساتھ كسی بہتر تناسب میں ہوتا تو روزگار كے اتنے خوفناك مسائل

پیدا نہیں ہوتے ۔ایك طرف تو آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف

وسائل محدود ہی نہیں بلكہ ان كا استعمال بھی انتہائی غیر منصفانہ طریقے

سے ہوتا ہے ۔

٢۔   سیاسی عدم استحكام

پاكستان كی یہ بدقسمتی رہی ہے كہ اسے ایسی قیادت میسر نہیں آسكی

جو سیاسی طور پر مستحكم ہوئی اور اس كے سامنے ملك كی ترقی كا كوئی

واضح پروگرام ہوتا اور وہ بہتر منصوبہ بندی اور اچھی حكمت عملی كے ذریعے

ملك كو ترقی كی راہ پر ڈال سكتی ۔اس كے برعكس ہوا یہ كہ ملك كے اندر

ہمیشہ افراتفری اور سیاسی عدم استحكام كی فضا رہی ہے جس كی وجہ

سے ملكی ترقی كے پروگرام ٹھوس اور دیر پا بنیادوں پر قائم نہ كئے جاسكے

۔سیاسی عدم و استحكام كی وجہ سے ملك میں سرمایہ كاری كی شرح

بہت كم رہی ہیب جس كی وجہ سے نجی شعبے میں بھی روزگار كے زیادہ

مواقع پیدا نہ ہوسكے ۔حكومتی عدم استحكام كا ایك بڑا نقصان یہ بھی ہوا كہ

سرمایہ دار طبقے نے پیداواری شعبوں میں سرمایہ كاری كی بجائے جائیدادوں

كی خریداری پر زیادہ توجہ دینی شروع كردی جس كی وجہ سے ملك میں

سرمائے كی گردش میں كمی پیدا ہوگئی اور جب سرمائے كی گردش یا صرف

دولت میں كمی ہوتی ہے تو اس سے ایك طرف تو ملك كی مجموعی قومی

آمدنی میں كمی ہوجاتی ہے تو دوسری طرف ترقی كا عمل بھی رك جاتا ہے اور

ترقی كا عمل جمود كا شكار ہوجائے تو روزگار كے مواقع میں خود بخود كمی

ہوجاتی ہے ان حالات كے تناظر میں دیكھا جائے تو خود روزگاری ہی واحد ذریعہ

نظر آتا ہے جس سے ایك طرف تو روزگار كے مواقع پیدا ہوسكتے ہیں تو دوسری

طرف ملك كی ترقی میں بھی اضافہ ہوسكتا ہے۔

 

http://www.pakmcq.com