Library Sindh Study FG Study quiz Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کے انتخابات کرائے جائیں، اے ٹی آئی

Offline AKBAR

  • *****
  • 3949
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study

تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کے انتخابات کرائے جائیں، اے ٹی آئی   
کراچی (اسٹاف رپورٹر) انجمن طلبائے اسلام کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری شکیل احمد فیاضی، جوائنٹ سیکرٹری عبدالرزاق طاہر اور محمد سعید سعیدی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ29 مارچ2008 کو نومنتخب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی پالیسی تقریر میں دیگر اعلانات کے علاوہ طلبہ یونینز پر سے بھی پابندی اٹھانے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم کے اس اعلان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہوں نے خیرمقدم کیا ہے بلکہ خیرمقدم کرنے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جوکہ پہلے طلبہ یونینز پر پابندی کے حامی تھے۔ انجمن طلبائے اسلام طلبہ یونینز پر پابندی کی ہمیشہ سے مخالفت کرتی رہی ہے کیونکہ اس سے تعلیمی اداروں میں بے شمار منفی نتائج سامنے آئے ہیں اور اس سے تعلیمی اداروں میں منفی سیاست کا آغاز ہوا، طلبہ کے پریشرگروپ وجود میں آئے۔ طلبہ میں سیاسی رقابتوں اور اختلافات میں اضافہ ہوا، بات قتل و غارتگری تک جا پہنچی۔ ان حقائق کی تصدیق مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہوں، اخباری رپورٹروں اور پابندی لگنے کے نتائج سے ہوتی ہے۔ ان نتائج کے مطابق طلبہ یونین پر پابندی سے قبل تعلیمی اداروں میں اتنے تصادم نہیں ہوئے، یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی جوکہ ضیاء الحق کے دور میں9 فروری1984ء میں لگائی گئی اس پابندی کے خلاف انجمن طلبائے اسلام ہرسال اس دن کو یوم احتجاج کے طور پر مناتی ہے کیونکہ یہی وہ سیاہ دن تھا کہ جب طلبہ کے حقوق کا قتل کیاگیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں فی الفور طلبہ یونینزکے انتخابات کرائے جائیں۔ سیاسی جماعتیں طلبہ تنظیموں کے امور میں مداخلت بندکر دیں اور طلبہ تنظیمیں سیاسی جماعتوں کے چنگل سے آزاد ہوکر اپنی آزاد پالیسی وضع کریں۔ تمام طلبہ تنظیمیں ایک دوسرے کو معاف کردیں اور مقدمات واپس لے لیں۔ تمام طلبہ تنظیمیں ایک متفقہ ضابطہ اخلاق پر دستخط کریں جس میں عدم مداخلت اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر زور دیا جائے۔