Library Sindh Study FG Study quiz Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

ناروے میں تعلیمی نظام کی مختصر تاریخ

Offline گل

  • **
  • 1045
  • +1/-2
  • Gender: Male


ناروے میں تعلیمی نظام کی مختصر تاریخ
©J.W. Cappelens arkiv©J.W. Cappelens arkiv

1700 کے وسط تک زیادہ تر نارویجن ان پڑھ تھے۔ صرف چند افراد پڑھ لکھ سکتے تھے۔

چرچ والے چاہتے تھے کہ لوگ بائبل کو پڑھیں۔ اس لیے ناروے نے 1739 میں پہلا تعلیمی قانون نافذ ہوا تھا۔ سکول میں بچے عیسائیت کے متعلق پڑھتے تھے۔ 1827 میں لکھائی، ریاضی اور گانے کے مضامین آئے۔ بچوں کو ہر سال چند ہفتے سکول جانے کی اجازت ملتی تھی۔ شہر میں دیہات کی نسبت زیادہ بچے سکول جاتے تھے۔ سات سال کا بچہ سکول شروع کرتا اور تقریباً 14 سال کی عمر میں ختم کرتا تھا (چرچ میں عیسائیت کی تصدیق کروانے تک)۔

1936 میں سات سال تک تعلیم لازمی تھی گو ہر کسی کے لیے سکول ایک جیسا نہ تھا۔ مثلاً لڑکوں کو لڑکیوں کی نسبت زیادہ ریاضی پڑھائی جاتی تھی اور لڑکیوں کو امور خانہ داری و کھانا پکانا۔

دوسری جنگ عظیم (1939۔1945 ) کے بعد نارویجن معاشرے میں برابری اور مساوات کی سوچ کو اہمیت دی گئی تھیاور ساتھ ہی سکولوں میں بھی۔ سبھی بچوں کے لیے مساوی تعلیم کردی گئی۔ امیر اور غریب والدین کے بچوں کا فرق مٹا دیا گیا۔ اب لڑکے اور لڑکیاں مساوی تعلیم حاصل کر سکتی تھیں۔ ملک میں کون کہاں رہتا ہے اس فرق کو بھی ختم کر دیا گیا۔

1969 میں لازمی تعلیم کی مدت سب کے لیے 9 سال کردی گئی اور پھر 1997 میں 10 سال۔