Library Sindh Study FG Study quiz Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters
9th Class MCQS App 4 Android>>
11th Class Result 2019 Faisalabad:فیصل آباد
|11th Class Result 2019 Bahawalpur:بہاولپور
|11th Class Result 2019 Multan:ملتان
|11th Class Result 2019 DG Khan:ڈی جی خان
|11th Class Result 2019 Sahiwal:ساہیوال
|11th Class Result 2019 Sargodha:سرگودھا
|11th Class Result 2019 Gujranwala:گوجرانوالہ
|11th Class Result 2019 Rawalpindi:راولپنڈی

Workshop for Sex Workers in Karachi Pakistan

Offline 0300-jazz

  • *
  • 2
  • +0/-0
Workshop for Sex Workers in Karachi Pakistan
« on: July 13, 2009, 02:41:30 PM »
Workshop for Sex Workers in Karachi Pakistan

     KARACHI: A three-day skill building workshop on STIs (sexually transmitted infections) and HIV got under way on Thursday to educate and prepare sex workers for running various preventive health programmes solely for their own benefit.

      The United Nations Population Fund, an international agency, is organising the workshop with the collaboration of the National Aids Control Programme. About 70 female sex workers, mainly from the red light areas of both Karachi and Hyderabad, turned up on the first day to attend lectures and interactive sessions.

      The female workers were brought to the workshop entitled ‘Skill building workshop on HIV and sex works’ with the support of an NGO and contraceptive marketers, said an organiser, adding that there was a plan to bring the female sex workers operating from kothis, bungalows and those giving services on call to such a forum in the future.

      At the inaugural session, the participants were told that since the late 1980s a large proportion of HIV cases had been detected in men, particularly those who had worked abroad.

      At present, based on cumulative cases, a higher proportion of people have been infected through sexual transmission, but the epidemic is expanding rapidly among injecting drug users, with a reported prevalence of 26 per cent among drug users in Karachi alone.

      A recent round of surveillance has shown an overall 6.4 per cent prevalence among male transvestites and 0.9 per cent prevalence among male sex workers. However, the rate among female sex workers continues to be low, informed Sindh Aids Control Programme officials.

      The country manager of the UNFPA, Daniel Baker, said that the main objective of the advocacy workshop was to discuss and develop appropriate strategies to address the sexual health needs of female sex workers in the country.

      The experts will help in developing models of good practices in providing culturally appropriate sexual health promotion strategies to sex workers, he added.

      Experts, including a sociologist from Bangladesh working as the UNFPA consultant at Myanmar, Habib-ur-Rehman, highlighted the risks and needs of sex workers and asserted that work needs to be done to build the capacity of government bodies, service providers, NGOs and donors in addressing these needs.

      The subject of the first day included FSW work in Karachi, field work methodologies, boyfriends/husbands of FSW and peer education.

      The workers were told that development of prevention skills and implementation of strategies should come from them, as it was the only viable way to increase personal and organisational capacities of the sex workers who were at risk of STIs and HIV.

      An expert told Dawn that NGOs find it difficult to reach sex workers or to implement programmes that address their risk and prevention issues adequately.

Offline 0300-jazz

  • *
  • 2
  • +0/-0
سیکس ورکرز کے لیے کراچی میں ورکشاپ
« Reply #1 on: July 13, 2009, 02:45:11 PM »
سیکس ورکرز کے لیے کراچی میں ورکشاپ

ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز میں محفوظ جنسی طریقے اپنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے تعاون سے کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جو سنیچر کو اپنے اختتام کو پہنچی اور اس میں ایک سو سے زیادہ خواتین سیکس ورکرز نے شرکت کی۔

پاکستان میں جسم فروشی پر پابندی ہے تاہم یہ کاروبار غیرقانونی طور پر جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے منعقد کردہ اس ورکشاپ میں خواتین سیکس ورکرز کو محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی دی گئی۔ ورکشاپ میں شرکت کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے پہلے ان طریقوں سے اتنی زیادہ آگاہی نہیں تھی اور یہ ورکشاپ ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ یعنی یو این ایف پی اے کے پراجیکٹ افسر ڈاکٹر صفدر کمال پاشا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پورے پاکستان کے اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن اس وقت ایک سروے کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زیادہ اور لاہور میں پچھتر ہزار خواتین سیکس ورکرز کام کررہی ہیں اور ان میں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی سے ایڈز کے پھیلاؤ میں بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسلم ملک یعنی بنگلہ دیش میں اس کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہے لیکن پاکستان میں اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس ورکشاپ کو منعقد کرنے سے پہلے یہ خدشات تھے کہ یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف سے سیکس ورکرز اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے شرکت نہیں کریں گی۔

ان کے بقول اس ورکشاپ کے اختتام پر ایک سو سے زیادہ تعداد میں سیکس ورکرز کی شرکت سے ہماری امیدوں سے بڑھ کر حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین سیکس ورکرز نے یہاں محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے امید ہے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو بھی اس بارے میں آگاہی دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جائے گی اور پھر اسی موضوع پر اگلے برس قومی کنونشن بھی منعقد کرنے کا ارادہ ہے جس میں ملک بھر سے سیکس ورکرز کو مدعو کیا جائے گا۔

یو این ایف پی اے نے یہ ورکشاپ کراچی میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی تھی جس میں سرفہرست جینڈر اینڈ ریپروڈکٹو ہیلتھ فورم یعنی جی آر ایچ ایف ہے، جس کے سربراہ مرزا علیم بیگ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم سولہ برس سے سیکس ورکرز میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

ان کے بقول محفوظ جنسی طریقوں میں میل اور فیمیل کنڈوم کے استعمال اور دیگر مختلف مسائل پر نہ صرف آگاہی دی گئی بلکہ سیکس ورکرز ہی میں سے چند کو ٹرینر کے طور پر تیار کیا گیا ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کو محفوظ جنسی طریقوں کے بارے میں آگاہی دیں گی تاکہ ایڈز اور دیگر جنسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو مسدود کیا جاسکے۔

اس ورکشاپ کے آرگنائزر اور جی آر ایچ ایف کے رکن ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے بتایا کہ تین روزہ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے خواتین سیکس ورکرز کے لیے ایک ہزار روپے یومیہ معاوضے کی ترغیب بھی دی گئی تاکہ وہ زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ ان کے بقول ایڈز کا پھیلاؤ کی بڑی وجوہات انتقالِ خون یا پھر جنسی روابط ہیں اور ان کی تنظیم، اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تعاون سے جنسی طریقوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

نادیہ پانچ سال سے بطور سیکس ورکر کام کررہی ہیں اور ان کے بقول ’اس ورکشاپ میں شرکت کرنے سے انہیں بہت معلومات حاصل ہوئیں ہیں۔ ان کے بقول مجھے پہلی بار پتہ چلا ہے کہ ایسی اشیاء موجود ہیں جو جنسی رابطے کو محفوظ بناتی ہیں جبکہ یہاں ان کا استعمال بھی بتایا گیا ہے۔ میں نے ایڈز کا نام سنا تھا لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ پھیلتا کس طرح ہے لیکن اس ورکشاپ میں مجھے اس بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں ہیں اور مجھے یہ ورکشاپ بہت اچھی لگی ہے۔‘

زیبا رمضان نے آنکھ ہی ریڈلائٹ ایریا میں کھولی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک منفرد ورکشاپ ہے جس میں پہلی بار ہمیں ایک فورم پر اکٹھا کیا گیا ہے، ایسے ورکشاپ ہر سال ہونے چاہیے، اس ورکشاپ سے پہلے ہم چھپے ہوئے تھے لیکن اب ہم بھی معاشرے کے سامنے آگئے ہیں اور ہم اپنے بارے میں آواز اٹھانے کے قابل ہوگئے ہیں، اب میں جی آر ایچ ایف تنظیم کی ممبر کی حیثیت سے اعتماد کے ساتھ اپنی اور اپنی برادری کے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہوں‘۔

شکریہ بی بی سی اردو