Library Sindh Study FG Study Punjab Study

Author Topic: گلبرگ كالج موبائل فون لانے پر ٹیچر كا طالبہ اور اس كی والدہ پر تشدد،پولیس نے جان  (Read 3559 times)

AKBAR

  • Editorial board
  • Hero Member
  • *****
  • Posts: 3774
  • My Points +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study


گلبرگ كالج موبائل فون لانے پر ٹیچر كا طالبہ اور اس كی والدہ پر تشدد،پولیس نے جان چھڑائی

ٹیچر كوثر جاوید نے مہرین كو تھپڑ مار كر موبائل چھین لیا۔ لڑكی اگلے دن والدہ كو ساتھ لائی

،ماں نے ٹیچر كو جوابی تھپڑ مار دیا، جس سے جھگڑا ہو گیا۔

  ٹیچرز نے مہرین كی والدہ كو لیبارٹری میں بند كركے زد وكوب كیا۔طالبات كا احتجاج ،پولیس

نے ویگنوں میں طالبات كو گھر بھیجا۔

لاہور ﴿حامد جاوید سے﴾ گورنمنٹ گلبرگ كالج برائے خواتین میں فزكس كی ٹیچر كوثر جاوید نے

فرسٹ ایر كی طالبہ مہرین سے موبائل چھیننے كے ساتھ ساتھ اسے زد وكوب كیا۔ لڑكی نے گھر

جا كر اپنی والدہ سے شكایت كی۔ والدہ جب گلبرگ كالج پہنچیں تو ٹیچر كوثر جاوید كو تھپڑ مار

دیا۔ ٹیچر نے جوابی حملہ كیا اور لڑكی كی والدہ كو زدو كوب كیا۔اس دوران لیبارٹری كے شیشے

ٹوٹ گئے۔
 لیكچرار نے لیبارٹری كی كنڈی لگا كر اپنی ساتھی لیكچرار كے ہمراہ والدہ كو زد وكوب كرنا

شروع كر دیا۔ لڑكیوں كے مطابق طالبہ كی والدہ كو دونوں لیكچرارز نے ٹوٹے ہوئے شیشوں پر

گھسیٹا اور مارا پیٹا۔ جس سے لڑكی كی والدہ كے كپڑے پھٹ گئے۔ طالبہ نے یہ صورت حال

دیكھتے ہی انہوں نے رونا شروع كر دیا۔

جس پر وہاں سینكڑوں لڑكیاں اكٹھی ہو گئیں۔ جب كہ بعض طالبات ڈنڈے پكڑ كر ساتھی طالبہ كی

والدہ كو بچانے وہاں پہنچ گئیں۔اس دوران طالبات نے 15پر پولیس كو كال كر دی ۔ لڑكیوں نے

لیكچرارز كے خلاف نعرہ بازی كی ،جب كہ ٹیچرز نے اندر سے كنڈی لگائی ہوئی تھی۔ پولیس نے

لڑكی كی والدہ كو شدید زخمی حالت میں پہلے ہسپتال پہنچایا،اور بعد میں ٹیچرز كو لڑكیوں سے

بچا كر كمرے میں لے جا كر بند كر دیا۔
 طالبات نے جنگ كو بتایا كہ مذكورہ لیكچرار اكثر طالبات سے بد تمیزی كرتی ہے۔ اور زد وكوب

كرتی  رہتی ہے۔ لیكچرار كوثر جاوید كے مطابق،میں نے پنجاب حكومت اور پرنسپل كی ہدایت كے

مطابق موبائل فون چھینا ،جس كے جواب میں لڑكی والدہ اس سے لڑنے كے لئے آگئی۔میں نے

اپنے دفاع میں جو كرنا تھا۔ كیا۔ كسی سے زیادتی نہیں كی۔لڑكی مہرین كے مطابق۔ لیكچرار نے

پہلے میرا قیمتی موبائل چھینا،اوراس كے بعد مجھے مارا پیٹا، میں نے اپنی والدہ كو بتایا،جب

میری والدہ آئی تو لیكچرار كوثر جاوید نے ان كو بھی شدید زد وكوب كیا۔
 پولیس كے مطابق ،خود اپنی نگرانی میں كالج كی تمام طالبات كو ویگنوں میں گھروں كو بھیجا۔

كالج كی پرنسپل ڈاكٹر نرگس رفیق كے مطابق كسی بھی طالبہ كو موبائیل لانے كی اجازت نہیں۔اس

واقع كی انكوائری ہو گی ،كیونكہ وہ چھٹی پر ہیں۔ انكوائری میں جو بھی ذمہ دار ہوا، اس كے

خلاف سخت كار وائی كی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



شکریہ جنگ