Library Sindh Study FG Study quiz Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters
9th Class MCQS App 4 Android>>
11th Class Result 2019 Faisalabad:فیصل آباد
|11th Class Result 2019 Bahawalpur:بہاولپور
|11th Class Result 2019 Multan:ملتان
|11th Class Result 2019 DG Khan:ڈی جی خان
|11th Class Result 2019 Sahiwal:ساہیوال
|11th Class Result 2019 Sargodha:سرگودھا
|11th Class Result 2019 Gujranwala:گوجرانوالہ
|11th Class Result 2019 Rawalpindi:راولپنڈی

بینظیر بھٹو ا ور نواز شریف کی واپسی کے حق میں بنیادی استدلال

Offline AKBAR

  • *****
  • 3963
  • +1/-1
  • Gender: Male
    • pak study
شکریہ روزنامہ جنگ ویب سائٹ
بینظیر بھٹو ا ور نواز شریف کی واپسی کے حق میں بنیادی استدلال,,,,حرف تمنا …ارشاد احمد حقانی
   
بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے حق میں سب سے پہلا کالم میں نے 10دسمبر 2003ء کو لکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”صدر مشرف کے نام کھلا خط“اس کے بعد میری تجویز کے حق میں اور اس کے خلاف بے شمار خطوط آئے لیکن مخالفت میں آنے والے خطوط کی تعداد دوسروں سے زیادہ تھی مگر میں نے ان مخالفانہ تبصروں کا ہر دفعہ جواب دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان دونوں لیڈروں کا واپس آنا جمہوریت کے فروغ کے لئے مفید ہوگا۔ اس موضوع پر میرے پاس دسیوں کالم ہیں لیکن میں یہ بحث صرف وہ پہلا کالم شائع کرکے بند کر رہا ہوں جس میں میں نے ابتداً یہ تجویز پیش کی تھی۔ قارئین بطور خاص میرے استدلال کے اس حصے پر غور کریں جس میں میں نے بھارت میں جمہوریت کے استحکام کے فوائد بیان کئے ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ ہم کیوں ترقی کی دوڑ میں ہندوستان سے پیچھے رہ گئے۔ میں یہ بھی واضح کر دوں کہ اس موضوع پر اپنے متعدد کالموں میں راقم نے بار بار یہ کہا کہ میں بے نظیر اور نواز شریف کو مثالی لیڈر قرار نہیں دیتا بلکہ میرا استدلال صرف یہ ہے کہ ان کی وطن واپسی سے جمہوریت کی منزل کی طرف ہمارا سفر زیادہ بہتر انداز میں جاری رہ سکے گا۔ مشکلات پھر بھی آئیں گی۔ نشیب و فراز بھی دیکھنے کو ملیں گے لیکن ان دنوں سابق وزرائے اعظم کو باہر رکھ کر بحالی جمہوریت کے عمل کو تیز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اب میرا کالم ملاحظہ فرمایئے: پاکستان بلاشبہ دنیا کا ایک اہم ملک ہے۔ عالم اسلام میں اسے ایک ممتاز مقام حاصل ہے اس کا جغرافیائی محل وقوع بے مثال اور اس کی قوت اور اہمیت کا ایک اہم عامل ہے۔ اس کی ایٹمی اور فوجی طاقت مسلمہ ہے۔ ملک قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ طویل ساحل سمندر رکھتا ہے اور گوادر کی تعمیر کے بعد اس کی دفاعی، تجارتی اور عالمی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے عوام محب وطن، ذہین اور محنتی ہیں۔ بیرونی ممالک میں مقیم اس کے فرزند اور دختران اس کی تقویت کا ایک اور ذریعہ ہیں۔ اس کی نئی اور نوجوان نسل باشعور، محنتی، روشن خیال اور محب وطن ہے اور کسی بھی قوم کی نئی نسل سے بآسانی اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے پہلو بہ پہلو یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور آئینی ادارے کمزور ہیں، جمہوری کلچر ناقابل رشک ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ کشیدگی ہمارے لئے بہت سے مسائل پیدا کرنے کا باعث ہے۔ معیشت کمزور نہیں تو مضبوط بھی نہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی پر ہم نے ہمیشہ بہت کم خرچ کیا ہے۔ عدل اجتماعی کا فقدان ہے۔ غربت اور امارت کی انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ قابل اعتماد ماہرین کے تجزیئے کے مطابق 40فیصد آبادی تو غربت کی لکیر کے نیچے رہ ہی رہی ہے جو 20فیصد اس سے ذرا اوپر ہیں ان کے لئے بھی جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا، اپنے اور اپنے بچوں کے لئے صحت کی سہولتیں حاصل کرنا، بچوں کو اچھی تعلیم دلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں آئین کا تقدس بار بار پامال ہوا ہے، قانون کی حکمرانی کی مستحکم روایت موجود نہیں۔ عدلیہ کا امیج ناقابل رشک ہے، انتظامیہ نااہل ا ور بے حس ہے اور عام آدمی کو اس سے معاملہ کرتے ہوئے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہندوستان سے تنازع کشمیر پر اس کے غیر منصفانہ موقف کی وجہ سے ہمارے تعلقات قریب قریب ہمیشہ ہی کشیدہ اور معاندانہ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کے لئے ایک دوسرے کا تذکرہ بطور ”دشمن“ کرنا ایک معمول ہے۔ وہ ہمارے لئے دشمن کا لفظ معمولاً استعمال کرتے ہیں اور ہم ان کے لئے یہی کچھ کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر محاذ پر ہندوستان کی طاقت اور توانائیاں پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنے میں صرف ہوتی ہیں۔ چونکہ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ وہاں جمہوری حکومت، آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کی مستحکم روایت موجود رہی ہے۔ وہاں انسانی وسائل کی ترقی پر ہمارے مقابلے پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس کی مڈل کلاس بہت بڑی ہے۔ نہ صرف اس کا سائز بڑا ہے بلکہ وہاں پڑھے لکھے لوگوں کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تو اسے ورلڈ لیڈر بھی کہا جاتا ہے سمندر پار ہندوستانی (Diaspora)تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور مغربی دنیا کے ممالک میں تعلیم، ڈپلومیسی اور میڈیا کے میدانوں میں گہرا اثر و نفوذ پیدا کر چکے ہیں اور اکثر اوقات یہ اثر و نفوذ ہماری حقیقی اور مزعومہ کمزوریوں کو نمایاں کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد ہندوستان امریکہ کے بھی قریب آچکا ہے اور روس سے اس کے تاریخی تعلقات بھی برقرار ہیں۔ اسرائیل سے اس کا گہرا گٹھ جوڑ ہے۔ یہ عامل بھی ہمارے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ دیانتداری سے معروضی جائزہ لیا جائے تو متعدد میدانوں میں پاکستان کا ہندوستان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اس کا عالمی امیج ہمارے مقابلے پر بہت بہتر ہے۔ وہاں بھی بے پناہ غربت ہے، پسماندگی ہے، کرپشن ہے، داخلی سلامتی کے متعدد مسائل ہیں لیکن جمہوریت کے تسلسل نے اس کے تمام عیوب ڈھانپ رکھے ہیں چونکہ پاکستان اور ہندوستان ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے اس لئے لامحالہ جنوبی ایشیا کے لوگ اور باقی دنیا دونوں ملکوں کا موازنہ کرتی رہتی ہے جس سے ہماری پسماندگی اور کمزوریاں اور ہندوستان کی کامیابیاں بہرحال نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت ہمارے لئے پسندیدہ ہو یا نہ ہو ہمیں تسلیم کرنا چاہئے کہ ہندوستان بڑی تیزی سے ایک عالمی طاقت بنتا جا رہا ہے اور کوئی دن کی بات ہے جب اسے سلامتی کونسل کی مستقل نشست مل سکتی ہے جس سے اس کی طاقت اور فوقیت اور زیادہ نمایاں ہو جائیں گی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے داخلی حالات میں حقیقی بہتری کے کوئی روشن امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ مکمل جمہوریت اور سویلین بالاتری بحال ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ جو انتخابات ہوئے بھی ہیں ان میں اتنی کمزوریاں رہ گئی ہیں کہ دنیا کے ایک بڑے حصے نے آج بھی پاکستان کو ایک جمہوری ملک تسلیم نہیں کیا۔ حکومت اور ایم ایم اے کے درمیان سمجھوتہ ہو بھی جائے توصدر مشرف کے جلد وردی اتارنے کے امکانات روشن نہیں ہیں۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ صدر ایک خاص وقت پر وردی اتارنے کا زبانی وعدہ کریں گے اور ایم ایم اے انہیں اعتماد کا ووٹ نہیں دے گی۔ حکومت نے ایم ایم اے کی حمایت سے دستبرداری اگر اس لئے قبول کی ہے کہ صدر کو وردی اتارنے کی تاریخ نہ دینی پڑے تو یہ قربانی یا ڈیل کچھ نہ کچھ معنویت بہرحال رکھتی ہوگی۔ نرم سے نرم لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس سے صدر کی وردی غیر معین عرصے کے لئے قائم رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مکمل بحالیٴ جمہوریت کی منزل ابھی غیر یقینی ہے اور یہ چیز پاکستان کے عالمی امیج کو متاثر کرتی رہے گی۔ بلاشبہ اس وقت امریکہ سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں اور دونوں کی باہمی ضرورت بہت جلد ختم ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ افغانستان، عراق، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی صورتحال پاک امریکہ قرب کو طول دینے کا باعث بن سکتی ہے لیکن میں اپنی یہ رائے دہراؤں گا کہ ہندوستان سے امریکہ کا تعلق نکاح اور ہمارے ساتھ متعہ کا ہے۔ نکاح بھی ٹوٹ سکتا ہے، علیحدگی اور طلاق کے مراحل آسکتے ہیں اور متعہ غیر معینہ عرصے تک بھی جاری رہ سکتا ہے لیکن اس وقت بہرحال صورت یہی ہے کہ امریکی اکابرین اور تھنک ٹینکس کی رائے میں ہندوستان ان کا ”فطری حلیف“ ہے جبکہ پاکستان سے تعلق ”ضرورت کی شادی“ (Marriage of Convenience)کی حیثیت رکھتا ہے۔ (جاری ہے)