ہوم اكنامكس پس منظر


اس دار فانی كے آغاز سے عورت ہی گھر كے نظام كو چلاتی آئی ہے۔ اور تمام چھوٹی بچیاں نسل در نسل اپنی مائوں سے خانہ داری اور گھریلو امور كے رموز و اوقاف سیكھتی آتی ہیں۔ یہ تربیت ہمہ وقتی طو رپر ہے۔ مائیں كھیل كھیل كے ذریعے اپنی بچیوں كو گھریلوذمہ داری اور امور سے آگاہ كرتی آئی ہیں۔ مگر وقت اور حالات كے تقاضے كے تحت بعض مائیں خانہ داری كی گھریلو تعلیم كے علاوہ دیگر مضامین كی تعلیم حاصل كرنے كے لیے مدرسے جانے لگیں۔ اس طرح ماں اور بیٹی دونوں گھر كی تربیت كو كل وقتی تربیت كے طور پر جاری نہ ركھ سكیں اور امور خانہ داری میں غفلت كا اثر گھر اور كنبے كی زندگی پر پڑے گا۔

گھر اور كنبہ معاشرے كا اہم جزو ہیں۔ اور ان میں كوئی نقص یا خرابی آ جائے تو سارا معاشرہ متاثرہ ہوتا ہے۔ اس لیے كچھ لوگوں كو اس صورت حال سے تشویش ہوئی اور اس كاحال ڈھونڈنے كی فكر میں لگ گئے۔ انیسویں صدی كے شروع میں امریكا میں شكاگو كے مقام پر پہلے ایك اور پھر كچھ اوركھانے پكانے كے سكول كھلے۔ جو بہت جلد پھر دلعزیز اور كامیاب ہوئے ان كی كامیابی دیكھ كر اس كی جگہ 1821میں ایك خانگی آرٹ سكول اور 1935میں سینے پرونے كا سكول بھی كھل گیا۔ یہ تینوں مدرسے بڑے كامیاب رہے اور ان كی كامیابی سے متاثر ہو كر ایك امریكی خاتون كیتھرائن ای ہچر نے اپنی تصانیف كے ذریعے ایك مہم شروع كی۔

1841میں اس نے ایك كتاب Treatise on Domestic Economyاور 1869میں ایك اوركتاب Principles of Domestic Science شائع كی۔ ان دونوں كتابوں میں اس نے اس چیز كی تائید كی كہ گھریلو رہن سہن بھی ایك علم ہے اور اسے جمع كیا جانا چاہیے۔ چنانچہ 1893ئ میں شكاگو كے عالمی میلے كے موقع پر ایك ہوم اكنامكس ایسوسی ایشن بھی قائم ہو گئی اوراس طرح ایك عالمی تحریك كی بنیاد ركھی گئی۔ اس تحریك كا مقصد گھر كے كنبے كے مسائل اور ان كا حل پر روشنی ڈالنا اور گھر اور كنبے كی زندگی كو بہتر بنانا ہے۔ یہ تحریك ہوم اكنامكس كی تحریك كہلانے لگی اور آہستہ آہستہ یہ تحریك پوری دنیا پر ہاوی ہو گئی۔