ہوم اكنامكس كی ضرورت

ہوم اكنامكس كے تاریخی پس منظر كے تحت جو مقاصد متعین كیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

١۔ فرد كو كنبے كی مشترك زندگی كے لیے بذریعہ تعلیم تیار كرنا۔

٢۔ گھریلو زندگی كے سامان اور ان كے استعمال كے طریقوں كو بہتر بنانا۔

٣۔ افراد كی مختلف عمروں میں بدلتی ہوئی ضروریات كے بارے میں تحقیق كرنا اور اس كی ضرورت كا پورا كرنے كے طریقے اور ذرائع دریافت كرنا۔

٤۔ گھر بستی اور قوم میں ایسے حالات پیدا كرنا كہ جن سے گھریلو زندگی پر مفید اثرات مرتب ہوں۔

٥۔ انسان كی بعض بنیادی اہلیتیں ایسی ہیں۔ جو ہر كنبے كی زندگی كو خواہ وہ كنبہ كسی طبقے یا درجے كا كیوںنہ ہو بہتر بناتی ہیںَ اور ان خاص اہلیتوں كو فروغ دینا ہوم اكنامكس كا وہ واضح مقصد ہے جس كے ذیلی مقاصد كو ہم یوں بیان كر سكتے ہیں۔

٦۔ ان اقدار كا یقین كرنا جو انفرادی كا اجتماعی زندگی كو بامعنی بناتی ہیں۔ اور پھران اقدار كی روشنی میں تدریس كے مقاصد متعین كرنا گھر اور بستی میں وہ ماحول پیدا كرنا جس میں تمام افراد اپنی عمروںكے ہر دور میں صحت مند زندگی گزار سكیں۔ اور مزید ترقی كر سكیں۔

٧۔ كنبے كے اندر اور بستی میں افراد كے باہمی تعلقات كو بہترین طریقے پر قائم كرنا اور فروغ دینا۔

٨۔ بچوں كی ذہنی معاشرتی اور جسمانی ترقی كی طرف خاص توجہ دینا۔

٩۔ كنبے كے مالی اثاثے كے استعمال كے ایسے طریقے دریافت كرنا جن سے كنبہ بہترین اقتصادی زندگی گزار سكے۔

٠١۔ مستقبل كے بارے میں ایسے انتظامات تجویز كرنا جن سے كنبے اور اس كے افراد كا مالی تحفظ ہو۔

١١۔ خوراك لباس اور دیگر خانگی اخراجات كے بارے میں ایسے منصوبے بنانا جو اس كنبے كے لیے متعین كردہ اقدار اور مقاصد كے حل كرنے میں مدد دیںَ

٢١۔ خانگی سامان اور اجناس كی خریداری كے لیے ایسے منصوبے بنانا جن كے ذریعے كنبے كے اقتصادی اور مالی اثاثے كا استعمال ہو سكے۔

٣١۔ گھرمیں ایسا ماحول پیدا كرنا جن سے افراد كے ذاتی مقاصد اور كنبے كے اجتماعی مقاصد پوری طرح ہو سكیں۔

٤١۔ ادب اور جن كے ذریعے افراد كی ذاتی زندگی كو زیادہ سلكش بنانا اور فارغ لمحات كو مفید مشاغل میں استعمال كرنے كے مواقع بہم پہنچانا۔

باوجود ذہنی یا معاشرتی اختلاف كے باہمی تعاون كے ساتھ زندگی گزارنے كی تربیت دینا۔ ہم ہوم اكنامكس كے مقصد اس طرح بھی بیان كر سكتے ہیں كہ گھریلو زندگی كو صحیح خطوط پر قائم كر كے اسے زیادہ موثرمفید اور خوشگوار بنایا جائے۔ تاكہ فرد كا گھریلو زندگی سے ایك بامعنی گہرا اور مضبوط رابطہ ااستوار ہو جائے۔

فرد كنبے كی بركات سے مستفید ہو كر اپنی زندگی خوشی و كامرانی سے گزار سكے۔ فرد كو دہن سہن كے اصول سكھائے جائیں اور اجتماعی زندگی كی وہ بنیادی اقدار سمجھائی جائیں جن كی وجہ سے وہ معاشرے كا ایك مفید اور داپسند فرد بن جائے۔ فرد ایك خوشگوار ماحول میں زندگی سكون اطمینان ومسرت سے گزار سكے۔