گھركو چلانے كی ذمہ داری عورت پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے كہ ایسی تربیت حاصل كرے جس سے گھریلو امور نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام پائیں اكثر یہ كہا جاتا ہے كہ ایك قوم كی ترقی كی عكاسی اس كے طریقہ رہائش سے ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے كہ لڑكیاں وقت كے تقاضوں كے مطابق گھریلومعاشیات كی تعلیم و تربیت حاصل كریں۔ پہلے زمانے میں زندگی نہایت سادہ تھی اور عورتیں گھروں سے باہر نہیں نكلتی تھیں۔ اور گھر كے تمام امور خود سرانجام دیتی تھیں اس لیے ہوم اكنامكس كی تعلیم حاصل كرنے كی كوئی خاص ضرورت محسوس نہیں كی گئی تھی لیكن موجودہ دور میں جبكہ لڑكیوں كے لیے بھی تعلیم ضروری سمجھی جاتی ہے۔ آج كے دور میں زمانے كے تقاضوں كے ساتھ معیار زندگی بھی بلند ہو گیا ہے۔ او رساتھ ہی گھریلو مسائل بھی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ اب خاتون خانہ كے لیے یہ نہایت ضروری ہے كہ وہ وقت قوت اور باقی تمام ذرائع كا استعمال بہتر طور پر كرے۔ گھر اورباہر دونوں كی مصروفیات كے ساتھ اپنی ساری ذمہ داری بہتر طور پر نبھائے۔ بچوں كی دیكھ بھال كے لیے بھی اس كے لیے یہ جاننا ضروری ہے كہ ان كی مناسب غذا لباس اور تربیت كے اچھے طریقے كیا ہیں۔ افراد خانہ كے ساتھ اچھے تعلقات ركھنا گھریلو كاموں كو سلیقے كے ساتھ سر انجام دینا اور اپنے ماحول كو خوشگوار ركھنا وغیرہ لڑكیوں كے فرائض میں شامل ہے۔
ہوم اكنامكس پڑھنے كے بعد ایك لڑكی فرائض كی انجام دہی كے ساتھ ساتھ وسائل و ذرائع كی خوش اسلوبی سے استعمال كر سكتی ہے۔ ہوم اكنامكس كے نصاب اورتدریس پر قومی تعلیمی پالیسی میں بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ بلكہ اس مضمون كو مڈل كی سطح پر لازمی كر دیا گیا ہے قومی تعلیمی پالیسی میں ہوم اكنامكس كو ایك خاص اہمیت اور مقام عطا كیا گیا ہے۔ دیہات كا ماحول شہر كے ماحول سے مختلف ہے۔ اور دونوں كے كاموں كی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے مگر كام كرنے كے اصول ایك ہی ہیں۔ جو دونوں جگہوں كے ماحول كی ضرورت كے مطابق استعمال ہو سكتے ہیں۔