تدریسی طریقے اور مواد كا انتخاب

منصوبہ بندی كے تحت موزوں تدریسی طریقے اور مواد كا انتخاب استاد كی دماغی اختراع اور تصورات پر مشتمل ہے بعض دفعہ ہم دیكھیں گے كہ استاد كا فیصلہ كرنے میں بعض عناصر ہوتے ہیں كہ وہ بے بس ہو جاتی ہے اور اس كی تدریس موثر نہیں ہوتی مثلاً كم وقت بڑی كلام ہوم اكنامكس كا كمرہ یا لیبارٹری جو مناسب چیزوں سے آراستہ نہیں اور مالی وسائل كی كمی بعض دفعہ استاد كے لیے بے حد مشكل ہوجاتاہے كہ انفرادی تدریس یا گروہی كام كروا سے۔ یہ دونوں چیزیں ہوم اكنامكس كی تدریس كے اہم جزو ہیںَ ہر حال میں استاد كو صورت حال مدنظر ركھتے ہوئے مناسب ردوبدل كرنا پڑتی ہے۔ اوریہی ایك خوبی ہوم اكنامكس كے استاد میں ہونا ضروری ہے۔

ہوم اكنامكس كی تدریس كا مقصد گھریلو اور كنبے كے ماحول كو بہتر بنانا ہے۔ لہٰذ ا تدریس كا عمل گھر اوركنبے كے گرد گردش كرتا ہے۔ دوران تدریس كنبے كے افراد كی زندگیوں كے بچپن سے بڑھاپے تك كے تمام دور اور ان كی خصوصی نفسیات او ر ضروریات كنبے كے تمدنی پس منظر اور ا س كی سماجی اور اقتصادی حقیقت اور ضروریات ہمہ وقت پیش نظر ركھنا پڑتی ہیںَ پھر كچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں بلا لحاظ ہر حال میں طالبات كے ذہن نشین كرانی ہوتی ہیں مثلاً

١۔ صحیح فیصلہ كرنے كے طریقے

٢۔ صحیح طرز استدلال

٣۔ مسائل كو جذباتی انداز كے بجائے عاقلانہ انداز سے حل كرنے كا گر

٤۔ تفتیش و تجویز كا سائنسی طریقہ

٥۔ اتفاق رائے كی بركات

٦۔ باہمی تعاون كے اصول اور طریقہ كار

٧۔ صحیح اقدار كا تعین

٨۔ شخصیت كا احترام جس میں فرد كی اپنی قدر شناسی بھی شامل ہے

٩۔ دوسروں كی بہبود میں دلچسپی وغیرہ

ہوم اكنامكس كی تدریس خیالات اور عادات میں تبدیلی كرنے اور ہنر سلائی لینے كا ذریعہ ہے۔ اور یہ دوسرا مقصد صرف اسی صورت میں حاصل ہو سكتا ہے كہ استاد اور شاگرد میں باہمی تعاون ہو ۔ اس لیے ہم یہ كہہ چكے ہیں كہ ہوم اكنامكس كی تدریس میں تعاون كے ماحول كو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ بغیر تعاون كے طالبات كے خیالات اور اطوار میںگھریلو رہن سہن كے متعلق وہ تبدیلی نہیں لائی جا سكتی جو گھریلو زندگی كو مفید اور خوش گوار بنانے كے لیے ضروری ہے۔