Introducing Tie and Dye Technique

كپڑے كی بناوٹ كے بعد اہم ترین پہلو ان كی رنگت یا ڈیزائن كا ہوتا ہے۔ جس سے اس كی خوشنمائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ كپڑوں كی خریداری كا زیادہ تر انحصار بھی اس كے نت نئے رنگ اور ڈیزائنوں پر ہوتا ہے۔ رنگ اگر كپ ڑے پر اس كی پائیدار ی تك قائم اور ترو تازہ رہے تو اس سے كپڑے كی قدر و قیمت میں اضافہ ہو تا ہے۔ اس كے برعكس كچے رنگوں سے عمدہ ترین كپڑے كی شان و شوكت بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ كپڑوں كے رنگ مختلف طریقوںسے نكلتے ہیں۔

١۔ رسنے سے Bleeding

پانی میں دھوتے وقت رنگ نہیںنكلتا لیكن اگر كپڑا پانی میں پڑا رہنے دیا جائے تو رنگ اس میں سے رس رس كر نكلتاہے۔

٢۔ رگڑ سے Crocking

بعض اوقات كپڑا پہننے سے اس كا رنگ جسم كے ساتھ رگڑ كھا كر اترتا رہتا ہے۔

٣۔ منتقلی سے Migration

مختلف رنگوں كے پرنٹ یا چھاپ دار كپڑوں كے رنگ گیلا ہونے پر ایك دوسرے پر چڑھ جاتے ہیں۔ اور منتقل ہو جاتے ہیں۔ رنگوںمیںبخارات پسینے دھوپ یا روشنی كی وجہ سے جو تبدیلی رونما ہوتی ہے اس كی اصل وجہ كیمیای عمل ہوتا ہے ۔ مثلاً پسینے سے تیزابی یا اساسی عمل رنگ كو نقصان پہنچاتا ہے۔ روشنی رنگ كے ساتھ عمل تكسید (Oxidation) كاباعث بنتی ہے۔ جو رنگوں كے خراب ہونے كے ساتھ ساتھ بعض اوقات كپڑے كے لیے بھی نقصان كا باعث بنتی ہے۔ كیونكہ ان عملوں سے بذات خود رنگ سوتی اوررے اون كے كپڑوں كو نقصان پہنچا سكتا ہے۔ مثلاً رنگ میں موجود سلفر یا گندھك جب پسینے یا نمی كے ساتھ ملتی ہیں تو ان سے گندھك كا تیزاب بن جاتا ہے۔ جو سیلولوز كے كپڑے كے لیے نہایت نقصان دہ ہوتا ہے۔

رنگوں كی اقسام

كپڑوں كے رنگ نہایت اہم ہوتے ہیں شروع میں استعمال ہونے والے رنگ نباتات اور كپڑوں وغیرہ سے حاصل كیے جاتے تھے لیكن آج كل رنگ كیمیاوی طریقے سے بھی حاصل كیے جاتے ہیں۔ او راس طرح زیادہ تعداد میں اور ہر طرح كا حسب خواہش رنگ حاصل كیا جاتا ہے رنگ دو طرح كے ہوتے ہیں۔

١۔ غیر جاذب رنگ Pigments

یہ ایسا رنگین مادہ ہوتاہے جو ناحل پذیر ہوتا ہے۔ اور اس سے كسی چمٹنے والی خاصیت (Boiding Agent) كی كیمیا كے ساتھ ملا كر كپڑے كی سطح پر لگایا جاتا ہے۔ جو نہایت باریك سی تہہ بنا كر كپڑ كو رنگدار بناتا ہے اس كا استعمال آسان اور كفایت شعاری پر مبنی ہے۔ اور كوئی بھی رنگ كسی بھی طرح كے كپڑے پر استعمال كیا جا سكتا ہے۔ اور یہ عمل مشینی Mechanical یا ہاتھ سے بھی ہوتاہے۔ لیكن ان كے استعمال سے كپڑے میں اكڑاہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اور یہ رنگ رگڑ سے اتر نے گھسنے اور ٹوٹنے لگتے ہیں۔ ان رنگین مادوں كو بعض اوقات كاٹنے كے دوران كیمیائی محللول میں ہی شامل كر كے دھاگے كو رنگ دیا جاتا ہے۔

٢۔ جاذب رنگ Dye

رنگ كی اصطلاح سے مراد ایسے مركب ہیں جو كپڑوں اور ریشوں پر كسی حد تك اس كے رنگ كے طور پر استقلال سے قائم رہے كوئی مركب یا مادہ محض رنگدار ہونے كی بنا پر كپڑوں كا رنگ نہیں كہلا سكتا ہے بلكہ كپڑوں كے رنگوں میں خاصیت لازمی ہوتی ہے۔ كہ وہ كسی دوسر ے ماید یا خاص طور پر كپڑوں كو اپنا رنگ اس طرح دے دے كہ وہ كپڑے كے ساتھ مستقل طور پر اس كا رنگ بن كر قائم رہے اور وہ كپڑے جو باآسانی رنگے جا سكتے ہیں ان میں جاذب ہونے كی خاصیت كا ہونا ضروری ہے۔

تاكہ وہ رنگ جذب كر سكیں۔ دوسرے یہ كہ ان رنگوں كو اپنے اندر محفوظ اور مقید كرنے كی خاصیت اور رغبت ہونی چاہیے۔ ایسے تمام مركب جو رنگ كے طور پر استعمال ہوتے ہیں ان میں كروموفور (Chromophore) گروپ موجود ہوتا ہے جو رنگ بخشتاہے اور خاص كپڑے میں خاص رنگت پیدا كرنے كی خاصیت اوگزوكروم (Ouxochrome) گروپ كی موجودكی بنا پر ہوتی ہے۔ ایك مفید اور عمدہ قسم كے رنگ كے لیے پكاہ تیز اور مستحكم ہونا ضروری ہے جو دھوپ كی روشنی میں پیش سے جلد ماند نہ پڑ سكے اس كے لیے كپڑوں كے اندر زیادہ سے زیادہ جذب ہونا ضروری ہے كپڑوں كو رنگنا مندرجہ ذیل اقدامات پر مشتمل ہے۔

١۔ كپڑے كو گیلا كرنا یا بھگونا۔

٢۔ رنگ میں تیزاب یا كوئی دوسری استقلامی خاصیت كا مادہ شامل كرنا تاكہ رنگ میں اس خاص كپڑے كے لیے رغبت میں اضافہ ہو سكے۔

٣۔ رنگ كپڑے پر منتقل كرنے كے لیے كپڑا اس میں كچھ دیر ڈبوئے ركھنا زیادہ تر كپڑے كو كھولتے ہوئے رنگدار محلول میں كچھ دیر ابالا جاتاہے۔ مخصوص قسم كے ریشوں كے لیے اگر تپش كی احتیاط دركار ہو تو انہیں ململ كے تھیلے میں ڈال كر ابالا جاتاہے اور پھر ٹھنڈے یا نیم گرم رنگ استعمال كیے جاتے ہیں۔