كپڑوں كو محض سادہ رنگ میں ڈبو دینے سے ہی رنگ نہیں دیا جاتا بلكہ رنگ میں ڈبونے سے پہلے اگر كوئی مخصوص طریقہ اور عمل استعمال كیا جائے اور پھر رنگ میں ڈبویا جائے تو اس سے بڑے خوبصورت ڈیزائن تخلیق كیے جا سكتے ہیں۔ یہ طریقے مندرجہ ذیل ہیں:
١۔ باطیك (Batik)
٢۔ چتری كا كام (Tie and Dye)
١۔ باطیك Batik
اس طریقے سے ڈیزائن ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں لیكن اس میں ایك انوكھی بات یہ ہے كہ ڈیزائن موم سے بنائے جاتے ہیں۔ موم كو اچھی طرح پگھلا كر گرم كیا جاتا ہے كپڑے كو كاغذ پر پھیلا كر ڈیزائن كی صورت میں بمطاببق كسی منتخب ڈیزائن كے كپڑے پر برش لگایا جاتا ہے۔ گرم ہونے كی وجہ سے موم كپڑے كے اندر تك رس جاتی ہے۔ جب ٹھنڈی ہو كر موم جم جاتی ہے تو كپڑے كو ہلكا ہلكا ہاتھوں میں دبا كر رنگدار محلول میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ جس سے بغیر موم لگے حصوں پر رنگ چڑھ جاتاہے اور موم لگے حصول میں پانی نہ جا سكنے كی وجہ سے وہ كپڑا اپنی اصلی رنگت برقرار ركھتا ہے۔ البتہ دبانے سے جہاں جہاں موم میں دڑاڑیں پڑ جاتی ہیں اس میں رنگ پہنچ كر باریك شریانوں كی صورت میں پھیل جاتا ہے۔ جس كا ا س قدر خوب صورت اور نازك تاثر سوائے باطیك كے كسی اور طریقے سے حاصل نہیں ہوتا۔
چتری كا كام Tie and Dye
اس میں كپڑے كو كسی خاص جگہ سے دھاگہ لپیٹ كر اور اچھی طرح كس كر باندھ دیا جاتا ہے دھاگہ چنری سے وہ حصہ بنا رنگے سفید یا كپڑے كی اصلی رنگت میں رہ جاتا ہے۔ جو دوسرے رنگ میں سے ابھرتا ہوا نہایت دیدہ زیب دكھائی دیتا ہے۔ یہ كام ہمارے دیہاتوں میں اس قدر عام ہے كہ چنری كے كام سے پرنت شدہ كپڑے كا استعمال كہیںنہ كہیں ضرور دھائی دیتا ہے۔ عموماً دوپٹوں اور پتلی اوڑھنے والی چادروں پر اس طریقے سے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ چاول مكئی چنے یا كوئی چھوٹی چھوٹی بجری وغیرہ كے دانے استعمال كیے جاتے ہیں۔
جن كا ہر دانہ الگ الگ كپڑ ے میں تھوٹے فاصلوں پر موٹے دھاگوں سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ دھاگے كو اتنے بل ضرور دینے چاہئیں كہ رنگ اس میں سے گزر كر كپڑے تك نہ پہنچ سكے۔ جب سارے كپڑے پر یہ دانے بندھ جاتے ہیں تو انہیں رنگین محلول میں ڈبو دیا جاتاہے۔ تھوڑی دیر بعد نكال كر اسی حالت میں سكھایا جاتا ہے۔ جب اچھی طرح كپڑا سوكھ جائے تو اس كے دھاگے كھولے اتیہیں جوں جوں دھاگے كھلتے جاتے ہیں كپڑے پر خوشنما اور سادہ ڈیزائن نمودار ہوتا جاتا ہے۔ سارا كپڑا ایك رنگ میں ہوتا ہے جس میں سفید یا كپڑے كے باندھنے سے پہلے رھگ كے گول یا چورس چھلے ابھرتے دكھائی دیتے ہیں یہ ڈیزائن مختلف رنگوں مختلف سائزوں كے چھلوں میں بھی بنایا جا سكتا ہے۔ دانے اس لیے باندھے جاتے ہیں كہ چھلوں كا سائز یكساں رہے۔
ورنہ ان كے بغیر بھی چنری كا كام ہو سكتا ہے۔ آج كل اس كام سے خوب صورت رنگوں میں رنگے پردے دوپٹے قمیض ساڑھی وغیرہ دستیاب ہیں۔ اس كام میں مزید تنوع پیدا كرنے كے لیے كپڑوں میں بارڈر لہریاں چھوٹے بڑے چھلے مختلف رنگوں میں سے ایك رنگ كے چھلے وغیرہ كے علاوہ مختلف ڈیزائن تیار كئے جا سكتے ہیں۔ لہریاں یا پٹیاں ڈالنے كے لیے بعض اوقات كپڑے كو تہہ لگا كر باندھا جاتا ہے اور مندرجہ بالا طریقے سے رنگا جاتا ہے۔