ہر عمر كے بچوں كی ضروریات اور شوق مختلف ہوتے ہیں كھلونے اس بات كو مخلوط خاطر ركھ كر بنانے چاہئیں كہ یہ كس عمر كے بچوں كے لیے ہیں ان كی ضروریات یا شوق كس قسم كے ہو سكتے ہیں۔
دو سال تك كی عمر كے بچوں كے لیے
اس عمر كے بچوں كو ایسے كھلونے دینے چاہئیں جو نرم ہوں اور بچے كو جسمانی طور پر كوئی نقصان نہ پہنچائیں مثلاً آنكھوں پر بٹن یا موتی لگانے كی بجائے كڑھائی كی جائے یا كپڑا لگایا جائے اگر گڑ یا كے بال بنانے ہوں تو ایسے ہونے چاہئیں كہ بچہ ہاتھ میں لے كر آسانی سے اكھیڑ نہ سكے۔ كھلونوں كے رنگ زیادہ شوخ ہوں تاكہ بچہ ان كی طرف متوجہ ہو اور سائز بھی ایسا كہ بچہ آسانی كے ساتھ ہاتھ میں كھلونے لے كر كھیل سكے كپڑے جو كھلونوں اور گڑیوں كے لیے استعمال كیے جائیں ان كا رنگ پكا ہونا چاہیے كیوكنہ بچے ان كو منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ علاوہ ازیں كھلونے ایسے ہوں جو بآسانی دھوئے جا سكیں كیونكہ اگر ایسا نہیں ہو گا تو اكثر كھلونے گندے ہونے كے باعث بچوں كے لیے بہت سی بیماریوں كا باعث بھی بن سكتے ہیں۔
دو سے پانچ سال كی عمر كے بچوں كے لیے
اس عمر كے بچوں كے لیے كسی بھی سائز كے كھلونے بنائے جا سكتے ہیں۔ لیكن جو گڑیاں كھلونا بھی بنایا جائے اس میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات ہونی چاہئیں كیونكہ اس عمر كر بچہ ہر چیز كا بغور جائزہ لیتا ہے اور نئی نئی باتیں سیكھتا ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں ہر نئی بات سیكھی ہوئیی بات اس كے دماغ پر نقش ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے كہ گڑیوں اور كھلونوں كی سب تفصیلات قدرت كے قریب تر ہونی چاہئیں اور رنگوں كا انتخاب بھی صحیح كرنا چاہیے۔
پانچ سال سے بڑی عمر كے بچوں كے لیے
اس عمر میں بچہ كافی سمجھ دار ہو چكا ہوتاہے۔ اور چاہتا ہے كہ وہ ہر كام میں خود حصہ لے اس لیے جو بھی كھلونا اس كے لیے بنایا جائے اس میں مندرجہ ذیل باتوں كا خیال ركھنا چاہیے بچے كا مشورہ بھی شامل كر لیں مثلاً كھلونے كی قسم كپڑوں كا رنگ وغیرہ تاكہ بچے كو بھی اپنی اہمیت كا احساس ہو اور اس میں خود اعتمادی پیدا ہو سكے۔ مختلف قسم كی گڑیاں جو كہ روز مرہ زندگی كے مختلف پہلوئوں كی نمائندگی كرتی ہیں ایك ہی قسم كے كھلونے مثلاً بھالو خرگوش وغیرہ كا پورا خاندان یعنی ماں با پ اور بچے تك تاكہ كھیل كھیل میں بچہ اپنے آپ كو بحقیقت ایك خاندان كے مرد كے پہچان سكے۔ ایسے كھلونے جن سے كھیلتے وقت وہ خود بھی ان كا حصہ ہو مثلا ً انگلیوں پر چڑھانے والی پتلیاں Puppetsوغیرہ۔
ہر عمر كے بچوں كے لیے
كچھ كھلونے ایسے بھی ہوتے ہیں كہ جو ہر عمر كے بچوں كے لیے مناسب اور تقریباً ہر عمر كے بچے ان كو لے كر خوش ہوتے ہیں یہ وہ گدی نما كھلونے ہیںجو كہ كھلونوں اور تكیوں دونوں كے طور پر كام دے سكتے ہیں ان سے بچوں كے كمرے میں بھی سجائے جا سكتے ہیں اور بچے رات كو ان كو لے كر سو بھی سكتے ہیں جس كا ایك بڑا فائدہ تو یہ ہو گا كہ ان كو پاس ركھنے سے بچے میں احساس تنہائی كم ہو جائے گا۔
گڑیوں اور كھلونوں سے نفع كمانا
كھلونے اور گڑیاں گھر میں بنانے سے گھر كے فالتو كپڑوں كے ٹكڑے اونی اور چھوٹے بڑے سب كپڑے استعمال ہو جاتے ہیں۔ اور ان پر كوئی خاص لاگت بھی نہیں آتی یہ چند فالتو وقت میں یا ٹیلی ویژن كے سامنے بیٹھ كر بھی آرام سیبنائی جا سكتی ہے۔ اس كا سب سے بڑا فائدہ یہ تو گا كہ آپ كو اپنے بچوں كے لیے زیادہ كھلونے بازار سے نہیں لینے پڑیں گے۔ جس كی وجہ سے گھر كے بجٹ میں كافی بچت كی جا سكتی ہے۔
اس كے علاوہ یہ كھلونے اور گڑیاں آمدنی بڑھانے كا بھی ایك اچھا ذریعہ ثابت ہو سكتی ہیں اگر محنت سے اچھے اور خوبصورت كھلونے اور گڑیاں بنائی جائیں تو یہ بازار میں بھی اچھے داموں فروخت ہو سكتی ہیں۔ یہ كھلونے اور گڑیاں بچوں كو سالگرہ یا كسی اور موقع پر ان كو تحفے كے طور پر بھی دیے جا سكتے ہیں۔ اس طرح وہ پسے جو كہ گھر كے بجٹ پر ایك گراں بار ہو سكتے ہیں ان كی آسانی سے بچت كی جا سكتی ہے۔ اور گڑیوں كا سٹال بھی لگائے جا سكتے ہیں۔ كھلونے اور گڑیاں بنانا نہ صرف گھر كے فالتو وقت گزارنے كا ایك اچھا ذریعہ ہے بلكہ ان كو خواتین كے كلبوں اور خواتین كی دوسری تنظیموں میں بھی باقاعدہ تربیتی پروگراموں كے تحت سكھایا جا سكتا ہے۔ سكولوں میں دستكاری كے اوقات میں بچوں كو یہ كھلونے اور گڑیاں بنانے كی تربیت دی جا سكتی ہے۔
ہسپتالوں میں ایسے مریض جن كو مصروف ركھنے كی ضرورت ہو ان كے لیے بھی یہ وقت گزارنے كا ایك اچھا ذریعہ اور موقع فراہم كر سكتے ہیں۔ گڑیوں كے بالوں كی كئی اقسام ہیں اور ان كے بنانے كا انداز بھی مختلف ہے البتہ گڑیوں كی مناسبت سے انہیں بنانا چاہیے گڑیا نوجوان لڑك ہے یا بچی یا عورت ہے چھوٹی بچی كے بال لمبے ہونے چاہئیں بڑی اور بالغ گڑیا كے بال اپنے تصورات كے مطابق بنائیں وول نٹنگ یا رن اسٹرپ اور ایمبرائڈری تھریڈ سے بالوں كو بنانے كے علاوہ بنے بنائے بال بھی خرید سكتے ہیں۔ بازار میں اس حوالے سے آپ كو كئی رنگا رنگ اشیا دستیاب ہو سكیں گی جو گڑیوں كو سجانے اورسنوارنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
بالوں كی بناوٹ كے لیے یارن بہت موزوں ہوتا ہے۔ آپ چاہیں تو اونی دھاگہ بھی استعمال كر سكتے ہیں۔ انہیں گوندھنا اور ان كی چٹیا بنانا آسان ہوتاہے۔ اور بھی كئی طریقوں سے ان كی آرائش كی جاسكتی ہے۔ جس اونی دھاگوں كی فٹنگ اچھی نہیں ہوتی ہے ان سے گھنگھرے بال بنانا آسان نہیں ہوتا ہے انہیں كھلا ركھ كر ایك ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ اور ان پر رنگین ربن لگا كر مزید خوبصورت بنایا جا سكتا ہے ان كی مدد سے پرانے طرز كی گڑیوں كو بھی نیا انداز عطا كیا جا سكتا ہے۔
اپ سویٹ سٹائل
اس سٹائل كے لیے آپ كو ایسے ٹیپ كی ضرورت ہے جس كی لمبائی ٤١ انچ ہو اور چوڑائی ایك سینٹی میٹر ہو دھاگہ اپنی پسند كا استعمال كریں جس كی لمبائی ٩ انچ ہو دھاگوں كو ٹیپ سے گائیے ٹیپ كے دونوں كناروں پر مشین سے دھاگہ سمیت سلائی كر لیں۔ اس جھالر كو پن كی مد د سے گڑھا كے سر پر لگائیں اور ایسا كرنے كے بعد گڑیا كو الٹا كر كے دیكھیں كہ بالوں كی لمبائی یكساں ہے یا نہیں۔ اگر چھوٹے بڑے ہوں تو انہیں برابر كاٹ لیٰں پن نكالنے سے قبل جھالر كو سی لیں اوپر كے بالوں كو یكساں كر كے دھاگے سے ہی سختی سے باندھ لیں اور اس كے بعد اس پر ایك رنگین ربن یا كپڑے كی بو لگا دیں جو ڈریس سے صحیح كرتی ہو۔
چوٹی اور گچھا
اٹھارہ انچ كی لمبائی میں یارن كاٹ لیں اوران كی تعداد اتنی ہو جائے كہ گڑیا كا سر آسانی سے ڈھك جائے تو ان كے درمیان میںٹیپ ركھ كر انہیں قریب قریب چپكا لیں اس كے بعد انہیں اسٹیج كر لیں۔ بالوں كو اس طرح سر كے پیچھے كی طرف پھیلا دیں كہ یہ سر كو ڈھك لیں۔ بالوں كو ایك اور جگہ ركھنے كے لیے بیگ اسٹیج كر لیں۔ اب پیچھے سے بالوں كو یكساں تعداد میں كانوںكی طرف لے آئیں اور چوٹی بنانا ہو تو چوٹی بنا لیں اور اگر گچھا بنانا ہو تو گچھا بنا لیں۔
متفرقات نائیڈہیئر
كسی ہلكے پھلكے كپڑے كو پٹی كی شكل میں پھاڑ لیں اور پٹی كی لمبائی چار انچ اور چوڑائی 3/8انچ ہو ۔ سوئی كا استعمال كرتے ہوئے باریك ٹانكے كے ذریعے پٹیوں كو سر پر ٹانك دیں اس طرح دیگر پٹیاں بھی لگا دیں اورہر پٹی كے درمیان میں 3/8انچ كا گیپ ہونا چاہیے۔
ایمپرائیڈ لوپس
بڑے سوراخ كی سوئی كا استعمال كریں اور بیك وقت كئی رنگوں كے دھاگے استعمال میں لاتے ہوئے سر پر بال بنائیں۔