ہم روزمرہ زندگی میں دیكھتے ہیں كہ بعض مرتبہ كسی خاص شے عمل یا معاشرتی مظہر كو اچھا یا برا سمجھنے لگتے ہیں۔ مثلاً داھی ركھنا وقار كا موجب ہے حج سے واپس آنے والے افراد كو اپنی كمیونٹی میں معزز گردانے جاتے ہیں اور اسی طرح ریفریجریٹر یار یا ٹیلی فون وغیرہ خریدنا بھی گھر والوں كی عزت كا باعث بن جاتا ہے اس كے برعكس جھگڑالو میاں بیوی كو ان ك ہمسایے اچھی نظر سے نیہیں دیكھتے حالانكہ یہ باہمیت وتكار فقط گھر كی چار دیواری تك محدود ہے او رمیاں بیوی كا بالكل ذاتی مسئلہ ہوتاہے قصبات میں پردہ نہ كرنے والی عورووں كو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیكھا جاتا بات پر قسمیں كھانے والا شخص اپنا وقار گنوا بیٹھتا ہے بد سلیقہ اورجھگڑالو میاں بیوی محلے بھر میں بدنام ہو جاتی ہے اچھائی اور برائی پسند اور حقارت كے ان معیاروں كو معاشرتی اقدار كہا جاتا ہے۔ معاشرتی اقعار ہمارے رویے اور باہمی تفاعل كے رخ كا تعین كرتا ہے گویا معارے كے تمام آداب و معمولات میں قوانین كی بنیادیں اور معیار ہیں انسانی سوچ كے تمام دھارے معاشرتی اقدار كی رنگا رنگی سے پھوٹتے ہیں اور كسی شے كا حقیقی استعمال اور افادہ اس كی معاشرتی قدر سے بالكل الگ بلكہ بعض دفعہ تو برعكس ہوتا ہے مثلاً پاكستان میں خواتین كو سونے كے زیورات بہت پسند ہیں كیونكہ یہ عزت بڑھاتے ہیں لیكن سونے كے زیورات كا كوئی فائدہ نہیں۔
نئے ماحول سے مطابقت
ہمارے معاشرے میں رسم ہے كہ شادی كے بعد لڑكی اپنے شوہر كے گھر چلی جاتی ہے۔ یہ گھر اور اس كے افراد لڑكی كے یلے نئے ہوتے ہیں خواہ رشتے دار ہوں یا غیر۔ یہ خاندان میں تربیت كے لحاظ سے ماحول میں تھوڑا بہت فرق ضرور ہوتا ہے زندگی میں كامیابی اس وقت تك نہیں ہو سكتی جب تك خود دوسرے خاندان كے ماحول كو اپنا نہ لیا جائے یا پھر اپنے ماحول كو عقل مندی كے ساتھ دوسرے ماحول میںسمو نہ دیا جائے كسی خاندان اور نئے ماحول میں گھل مل جانا كوئی مشكل كام نہیں ہے اس كے لیے ماحول كو سمجھنے كی اہلیت دوسروں كے خیالات كو جانچنے كی قابلیت اور خیالات كی پختگی اور لچك كا ہونا ضروری ہے۔