باپ كو بڑھتے ہوئے خاندان اور اخراجات كے لیے آمدنی میں اضافے كے بارے میں سوچنا چاہیے۔ گھر میں خاوند كی حیثیت اگر بادشاہ جیسی ہے تو بیوی كو اس كی وزیر اعلیٰ كہا جاتا ہے۔ اس لیے اسے خاوند كی كمائی ہوئی رقم كو سوچ سمجھ كر خرچ كرنا چاہیے۔ البتہ ماہانہ بجٹ بنا لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
گھر كو سگھڑ طریقے سے آرائش كرنا۔
اپنے اورسسرالی رشتہ داروں كی عزت اور خدمت كرنا۔
بچے كی آمد پر خوشی كا اظہار كرنا اور دوران حمل اپنی صحت اور خوش مزاجی كا خیال ركھنا چاہیے۔
گھر میں مختلف لوگوں مثلاً ساس سسر دیور اور نندوں كے رویوں اور كردار میں توازن برقرار ركھنے میں شوہر كی مددگار ثابت ہو سكتی ہے۔
جنسی جذباتی ذہنی اور فطری تعلقات خوش گوار طریقے سے استوار كرنا گھر كے ماحول فرنیچر اور ساز و سامان كی تربیت وقتاً فوقتاً اپنے ذرائع و سائل كے مطابق تبدیل كرتے رہنا تاكہ ماحول یكسانیت كاشكار نہ ہو۔ گھر میں خود اعتمادی اور سكون كا ماحول پیدا كرنا۔
روایتی طورپر شوہر اور بیوی اپنے كرداروں پر سختی سے پابند ہیں۔ جس میں عورت اور مرد كا كام الگ الگ ہے۔ مرد كنبے كے سربراہ اور بیوی بچے اس كے دست نگر ہیں۔ ان كومرد كی عزت و احترام لازم ہے۔ اسی طرح بیوی كا كام بچوں كی پرورش و تربیت اور گھر كی چاردیواری كے متلق تمام تر ذمہ داریاں سنبھالنا ہے۔ آج كل عورت اور مرد كے كرداروں میں تبدیلی آتی جا رہی ہے۔ عورتیںمردوں كے كام بھی كر رہی ہیں۔ او ر اس طرح مردوں نے گھر كے كاموں میں عورت كا ہاتھ بنانا شروع كر دیا ہے۔