Library Sindh Study FG Study Punjab Study
PakStudy :Yours Study Matters

Rbaay

Offline sb

  • **
  • 27534
  • +5/-0
  • Gender: Female
Rbaay
« on: May 14, 2009, 08:53:04 PM »
Rbaay
The specific weight of the whole poem rayk four msraun the first, second and fourth msra qafyh we are called rbaay rbaay comment on issues defined in the hkymanh. This style of Persian literature, Urdu poetry took place in ideal.
In the current era of the field has also only four msraun. Rbaay qafyh we are definitely in the other three msray rbaay of the Atlantic Ocean and in particular is said rbaay is no discipline and gender of rbaay say bhrmyn is permissible. and thus their weight and qafyh rbaay from every angle and number of songs is unique and permanent Sukhan unique style.
Tip Off
This style was developed together msnuy qsydy and the long poem, and each component part of a .. off, called off all the early songs qsydy) or Spin (qafyh we like, but my last poem qafyh is different. Next stop on the tape begins with our unique coffee is finished. This style is no longer useful to speak. The number of fixed points and their songs together as a digital but not necessarily be equal.
Close trjya
But many are closing the gender Sukhan idea of ​​closing down one after the tape is repetition. Also it is closed and locked each msra qafyh share equals the number of msraun. The five points There are more than msray. this poem to express a sentiment or opinion is valid. to stop the tape is in the poem's theme. trjya the tape off and never ever met a lion msra
Msmt
Several poems in the whole name msmt msmt Triangle, Square, Pentagon) or kmsh (or lions, etc. There are many poems. Msraun triangle of the three is closed and then notify each of the three msray we qafyh Lions first and third of his two msraun qafyh qafyh of the first tiger. msmt such as page two of the three msraun is a lion. msraun this square with four, five kms from Hexagon is a six msraun And even in those categories last msra qafyh one of these categories is the Pentagon's highest peak is found.
Hexagon Tip Off
Urdu is pure hexagonal style as it is called nowadays only hexagonal. He invented by Ms. Deal. D forests with a style that matches the two poems. Hexagon is a kind of poem msnuy. Because no event or idea is repeatedly mentioned. that every stop is six msraun msray first four and last two of which are msray your qafyh.
I also wrote that Islam and Iqbal and ebb, majestic, and majestic, the answer, and adopted it for a few more poems.

رباعی
چار مصرعوں او رایک مخصوص وزن کی مکمل نظم جس کا پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو، رباعی کہلاتی ہے رباعی میں حکیمانہ مسائل پر تبصرہ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ صنف نظم بھی فارسی ادب سے اردو میں حسنہ لے لی گئی۔
موجودہ زمانے میں چونکہ قطعہ بھی چار مصرعوں ہی کا رہ گیا ہے۔ رباعی میں تینوں مصرعے لازماً ہم قافیہ ہوتے ہیں اور دوسرے یہ کہ رباعی کی بحر مخصوص ہے نہ رباعی کسی اور بحر میں کہی جاتی ہے نہ کوئی اور صنف نظم رباعی کی بحرمیں کہنا جائز ہے۔ اور اس طرح رباعی اپنے وزن و قافیہ اور تعداد اشعار ہر اعتبار سے بالکل منفرد اور مستقل جداگانہ صنف سخن ہے۔
ترکیب بند
یہ صنف قصیدے اور مثنوی کو ملا کر تیار کی گئی ہے اس طویل نظم کے کئی جز ہوتے ہیں اور ہر جز ایک ٫٫ بند٬٬ کہلاتا ہے ہر بند کے ابتدائی اشعار قصیدے ﴿یا غزل﴾ کی طرح ہم قافیہ، لیکن آخری شعر اپنا الگ قافیہ رکھتا ہے۔ دوسرا بند اپنے جداگانہ قافیے کے ساتھ شروع ہو کر ٹیپ پر ختم ہوتا ہے۔ یہ صنف کسی طویل بات کہنے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ ان بندوں کے اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہے اور ان کا آپس میں بھی عددی طور پر مساوی ہونا ضروری نہیں۔
ترجیع بند
اس صنف سخن میں متعدد بند ہوتے ہیں لیکن ترکیب بند کے ہر بند کے بعد ایک ہی ٹیپ دہرائی جاتی ہے۔ نیز اس بند میں ہر مصرع بھی مشترک قافیہ رکھتا ہے اور بند کے مصرعوں کی تعداد بھی برابر ہوتی ہے۔ اس کے بندوں میں پانچ سے زائد مصرعے نہیں ہوتے ہیں۔ یہ نظم کسی ایک جذبے یا خیال کے اظہار کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ بند کے ٹیپ میں نظم کا مرکزی خیال ہوتا ہے۔ ترجیع بند کی ٹیپ کبھی پورا شعر ہوتا ہے اور کبھی صرف ایک مصرع
مسمط
مسمط کئی نظموں کا مجموعی نام ہے مسمط میں مثلث، مربع، مخمس ﴿یا خمسہ﴾ یا شعر وغیرہ کئی طرح کی نظمیں آتی ہیں۔ مثلث میں تین تین مصرعوں کا بند ہوتا ہے مطلع کے تینوں مصرعے ہم قافیہ اور اس کے بعد ہر شعر کے پہلے دو مصرعوں کا قافیہ اپنا ہوتا اور تیسرے کا قافیہ پہلے شعر کے مطابق۔ گویا مسمط ایسی غزل ہے جس میں دو کی بجائے تین مصرعوں کا شعر ہوتا ہے۔ اس طرح مربع چار مصرعوں والی، خمس پانچ اور مسدس چھ مصرعوں والی کو کہتے ہیں اور ان اصناف میں بھی آخری مصرع کا ایک ہی قافیہ ہوتا ہے ان اصناف میں سب سے زیادہ مخمس نے عروج پایا ہے۔
ترکیب بند مسدس
مسدس صنف خالص اردو ہے اسے آج کل صرف مسدس ہی کہا جاتا ہے۔ اس کو سودا نظیر نے ایجاد کیا۔د ونوں کے ہاں اس طرز کی ایک ایک دو دو نظمیں ملتی ہیں۔ مسدس ایک طرح کی مثنوی نظم ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی مسلسل واقعہ یا خیال بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا ہر بند چھ مصرعوں کا ہوتا ہے جن میں سے پہلے چار مصرعے اور آخری دو مصرعے اپنا قافیہ رکھتے ہیں۔
مرثیہ نگاروں نے اس کو گویا مرثیہ کے لئے وقف کر لیا۔ چنانچہ مرزا دبیر اور میر انیس جیسے مشہور مرثیہ گووٕں نے تمام مرثیے مسدس ہی میں کہے ان کے بعد حالی نے بھی اس مسدس کی تاثراتی اہمیت کو محسوس کر کے اپنی غیر فانی نظم مد و جزر اسلام اسی میں لکھی اور اقبال نے بھی ٫٫ شکوہ٬٬ اور ٫٫ جواب شکوہ٬٬ اور چند اور نظموں کے لئے اسی کو اختیار کیا۔
   
If you born poor, its not your fault....But if you die poor, its your fault...."Bill Gates"